پی ایم ڈی سی کا بڑا اعلان: ایم ڈی سی اٹیٹ اب ایف ایس سی کے ایک ماہ بعد
اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے میڈیکل اور ڈینٹل کالج انٹری ٹیسٹ کے شیڈول میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اب ، ایف ایس سی کے امتحانات کے ایک ماہ کے اندر ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ منعقد کیا جائے گا۔ وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اسے مثبت قدم قرار دیا، جبکہ پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج نے تصدیق کی کہ یہ پالیسی 2026 کے ایف ایس سی امتحانات سے نافذ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے طلبہ جلد اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں گے اور داخلہ عمل تیز اور منظم ہوگا۔
2025 میں 140,125 سے زائد امیدواروں نے MDCAT کے لیے رجسٹریشن کروائی تھی۔ لیکن نئے شیڈول پر طلبہ میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
طلبہ کے تحفظات: فریشرز کے لیے وقت کی کمی
بہت سے طلبہ نے نئے شیڈول پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
-
ایف ایس سی کے امتحانات روایتی تحریری نوعیت کے ہوتے ہیں
-
جبکہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ مکمل طور پر ملٹی پل چوائس سوالات پر مشتمل ہوتا ہے
-
دونوں امتحانات کے انداز اور تیاری کے طریقے یکسر مختلف ہیں
-
چند ہفتوں کا مختصر وقفہ مؤثر تیاری کے لیے کافی نہیں
دو گروپ، دو حقیقتیں
طلبہ کی دو بڑی جماعتیں ہیں جن کے مفادات الگ ہیں:
ریپیٹرز (وہ طلبہ جو پہلے ایف ایس سی پاس کر چکے ہیں)
-
ان کے ایف ایس سی امتحانات بہت پہلے ختم ہو چکے ہیں
-
وہ مہینوں یا سالوں سے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی تیاری کر رہے ہیں
-
ان کے پاس کافی وقت ہے
-
یہ گروپ نئے شیڈول کے حق میں ہے
فریشرز (موجودہ ایف ایس سی طلبہ)
-
وہ مارچ/اپریل میں ایف ایس سی کے امتحانات دیں گے
-
اس کے فوراً بعد ایک دو ہفتوں میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دینا ہوگا
-
ان کے پاس تیاری کے لیے بہت کم وقت ہوگا
-
یہ گروپ شدید پریشان ہے
-
انہیں خدشہ ہے کہ ان کی کارکردگی متاثر ہوگی اور میڈیکل کالج میں داخلہ مشکل ہوجائے گا
اکیڈمی مافیا: طلبہ کو لوٹنے کا دھندا
ایک اور سنگین مسئلہ پرائیویٹ اکیڈمیوں کا ہے۔ ناقدین انہیں "اکیڈمی مافیا" کا نام دیتے ہیں۔ یہ اکیڈمیاں طلبہ کی پریشانی کا فائدہ اٹھا کر انہیں لوٹ رہی ہیں:
-
وہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ تیاری کے لیے 50,000 سے 200,000 روپے تک کی بھاری فیس وصول کرتی ہیں
-
پی ایم ڈی سی کے اعلان کے بعد انہوں نے "آن لائن ابتدائی تیاری سیشنز" شروع کر دیے ہیں
-
وہ طلبہ میں خوف پھیلاتی ہیں کہ ان کی کوچنگ کے بغیر MDCAT پاس کرنا ناممکن ہے
-
خاص طور پر فریشرز، جو پہلے سے دباؤ میں ہیں، ان کے جال میں پھنس رہے ہیں
یہ صورتحال غریب اور متوسط گھرانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
تین سالہ ویلیڈیٹی تنازعہ: الٹے پلٹے موقف
پچھلے سال ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ اسکور کی تین سالہ ویلیڈیٹی پر بڑا تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔ اس مسئلے نے فریشرز اور ریپیٹرز کو آمنے سامنے کر دیا تھا۔
-
پچھلے سال فریشرز کا موقف تھا کہ پرانے ریپیٹرز کو فائدہ ہے کیونکہ ان کے زمانے میں یو ایچ ایس کا آسان ٹیسٹ ہوتا تھا جس میں زیادہ نمبر ملتے تھے
-
انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ریپیٹرز کو تین سالہ ویلیڈیٹی نہ دی جائے
-
اب وہی طلبہ جو پچھلے سال فریشر تھے، اب خود ریپیٹر بن چکے ہیں
-
اب وہ تین سالہ ویلیڈیٹی کے حق میں ہیں کیونکہ ان کی باری آچکی ہے
اس تبدیلی کو بہت سے لوگ منافقت قرار دے رہے ہیں۔ یہ واضح کرتا ہے کہ پالیسیاں مستقل اور منصفانہ ہونی چاہئیں، نہ کہ گروہی مفادات کے تحت بدلتی رہیں۔
ابہام اور غیر یقینی صورتحال: حکومت کو فوری اقدام کرنا ہوگا
ایک بار پھر پورا عمل ابہام اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ طلبہ اور ان کے والدین ٹراما میں ہیں کہ آخر کون سے قواعد لاگو ہوں گے؟ اہم مسائل درج ذیل ہیں:
-
شیڈول اور ضوابط کا دیر سے اعلان کیا جاتا ہے
-
پالیسیاں بار بار بدلتی ہیں، بغیر طلبہ سے مشاورت کے
-
ٹیسٹ کی مشکل، مارکنگ اور ویلیڈیٹی قوانین میں شفافیت نہیں
-
معیاری اور سستی تیاری کا کوئی نظام نہیں، جس سے طلبہ مہنگی اکیڈمیوں کے رحم و کرم پر ہیں
حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟
-
ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 2026 کا حتمی شیڈول کم از کم چھ ماہ پہلے جاری کرے
-
ویلیڈیٹی، ریٹیک اور مساوات کے حوالے سے واضح اور شائع شدہ قوانین بنائے
-
طلبہ خصوصاً فریشرز کے لیے مفت یا سستی تیاری کے وسائل مہیا کرے
-
اکیڈمیوں کی فیسوں کو ریگولیٹ کرے اور استحصالی طریقوں پر پابندی لگائے
-
فریشرز اور ریپیٹرز کے مفادات میں منصفانہ توازن پیدا کرے
اگر ایسا نہ ہوا تو ایک بار پھر وہی ہوگا جو پچھلے سال ہوا: احتجاج، والدین کی پریشانی، اور بہت سے مستحق طلبہ کے میڈیکل کالج کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔
آخر میں
پی ایم ڈی سی کا مقصد داخلہ عمل کو بہتر بنانا ہے لیکن اس کے لیے طلبہ کی زمینی حقیقتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایف ایس سی اور ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے درمیان فرق صرف ایک ماہ کرنا ریپیٹرز کے لیے تو آسان ہو سکتا ہے، لیکن یہ فریشرز کے لیے ناممکن مشکل بنا دے گا۔ دوسری طرف اکیڈمی مافیا افراتفری سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے، اور پرانی ویلیڈیٹی تنازعہ نئے اتحادوں کے ساتھ لوٹنے والا ہے۔ حکومت کو ابھی قدم اٹھانا ہوگا۔ ورنہ ایک بار پھر وہی منظر دیکھنے کو ملے گا: پریشان طلبہ، تنگ والدین، اور ضائع ہوتے خواب۔












